May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
WhatsApp Image 2024-04-28 at 16.40.32

تونس کے ایک اسکول میں طالبہ کے حجاب پہننے کی وجہ سے اس کی ایک ٹیچر کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں اس کی عزت افزائی کی گئی۔ اس تقریب کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس پر عوامی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو پرملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے دینی اقدار کی ترویج کے ساتھ جوڑا ہے جب کہ روشن خیال لوگوں نے اسے طلبا کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکل قرار دیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبات کے درمیان لباس کی وجہ سے کسی کی تکریم امتیازی سلوک اوران میں مذہبی تقسیم کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے حسن سلوک اوران کی پڑھائی میں بہتر کار کردگی پر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ کسی بچی کی اس کے حجاب کی وجہ سے عزت افزائی کرنا اس کی کارکردگی کے بجائےاس کے لباس کی تحسین کرنا ہے۔Play Video

ویڈیو کلپ جسے سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے دیکھا استادنیا کلاس روم میں داخل ہوتے ہی ہاتھ میں ایک کیک لیے نظر آئیں جس پر لکھا تھا، “آپ کے حجاب پر مبارک ہو”۔ اس پر دیگر طالبات اور طلبا کھڑے ہوئے اور تالیاں بجائیں۔

اس ویڈیو کے پھیلنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر کچھ کارکنوں نےخاتون ٹیچر کے خلاف پر بڑے پیمانے پر تنقید شروع کیا اور اس کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ بعض صارفین نے خاتون ٹیچر کو اس امتیازی رویے پر سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

سماجی کارکن کارکن محمد توزی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر نے جو کچھ کیا وہ قانون کے مطابق قابل سزا جرم تھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نے طلباء پر اپنے اخلاقی اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان پر اپنے نظریات مسلط کیے۔ میں کالج کا طالب علم ہوں اگر میری بیٹی اس کلاس میں پڑھتی ہوتی تو میں اس اقدام کے خلاف عدالت میں جاتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *