May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

ترکیہ میں ایک مشہور اداکار نے اپنے بچپن کے ایک واقعے پر اسکول اور اساتذہ سے انوکھا انتقام لیا جس پر اسے عوامی حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔

ادکار نے ایک اسکول کے ملبے کی تصویر جاری کی ہے جسے اس نے خریدنے کے بعد مسمار کرا دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ جب وہ چھوٹا تھا اور اس اسکول میں پڑھتا تھا تب اس کے اساتذہ نے اسے متعدد بار سبق یاد نہ ہونے پر مارا پیٹا تھا۔

اداکار چاگلار ارطغرل جس نے ’منظمہ‘ سمیت کئی دوسری فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کی ہے نے اپنے انسٹا گرام پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں اسے ایک تباہ شدہ اسکول کے ملبے پر دیکھا جا سکتا ہے۔

چاگلار ارطغرل کا کہنا ہے کہ یہ ایک پرائمری اسکول ہے جس میں اس نے بچپن میں پڑھا تھا مگر اس اسکول کے ساتھ اس کی ناخوش گوار یادیں وابستہ تھیں۔ اس کے بہ قول اساتذہ نے بچپن میں اسے اس اسکول میں مارا پیٹا تھا جس کی وجہ سے اس نے اسکول خرید کر اسے مسمار کر دیا۔

اس نے کہا کہ ’میں اساتذہ کی اس زیادتی کا بدلہ لیا ہے جنہیں نے مجھے اس اسکول میں پڑھائی کےدوران مارا پیٹا تھا‘‘۔

ترک اداکار کی پوسٹ نےعوامی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ ادکار کو اس کے انسٹاگرام فاولورز کی طرف سے بھی تنقید کا سامنا ہے جہاں اس کے 3 ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے پر سامنے آنے والے رد عمل میں بعض لوگوں کو چاگلار ارطغرل کی حمایت کرتے دیکھا اج سکتا ہے۔ تاہم زیادہ تر صارفین نے اس کے اس اقدام سے سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

سخت تنقید کے باعث ترک اداکار اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کچھ صارفین کے تبصرے ’چھپادیے‘ تاکہ دوسرے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں۔

ارطغرل پرائمری سکول کے کھنڈرات پر مسکراتے ہوئے کئی تصاویر میں نظر آئے۔

ترک میڈیا نے بتایا کہ ترک اداکار شاید اپنے ناظرین کو ہنسانا چاہتے تھے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔

تاہم بعض میڈیا پلیٹ فارم پر ایک الگ کہانی چل رہی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ یہ چاگلار ارطغرل کو جس اسکول کے کھنڈرات پر دیکھا جاسکتا ہے وہ دو سال قبل آنے والے زلزلے میں تباہ ہوگیا تھا۔

ایک ہفتے سے بھی کم عرصے سے شدید تنقید کا سامنا کرنے کے باوجود مشہور اداکار کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *