May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
رئيس السنغال الجديد باسيرو ديوماي فاي (أرشيفية- رويترز)

سینیگال میں اقتدار سنبھالنے کے باوجود نئے صدر باسیرو دیومائی فائی رسمی طور پر ابھی تک اپنے خاندان کے ساتھ رواج کے مطابق صدارتی محل میں رہائش کے لیے منتقل نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے دارالحکومت ڈاکار کے ایک لگژری ہوٹل میں رہائش اختیار کرنے کو ترجیح دی۔

2 اپریل کو ملک کے صدر کے طور پر اپنے حلف برداری کی تقریب کے بعد سے باسیرو نے خود کو پروٹوکول میٹنگز کے وقت صدارتی محل کا دورہ کرنے تک محدود رکھا ہے۔ وہ حکومت کے افتتاحی اجلاس میں آئے اور کچھ دوستوں سے ملاقات بھی کی۔ وہ یوم آزادی کی تقریب میں بھی ایوان صدر میں آئے لیکن انہوں نے وہاں رہائش نہیں رکھی۔

نومنتخب صدر کے رویے پر بہت سے لوگ حیران ہیں۔ انہیں چونکہ ایک سال تک قید میں رکھا گیا اور سابق صدر میکی سال کی طرف سے انہیں مبینہ بدسلوکی کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ توقع تھی کہ وہ جلد بازی کرتے ہوئے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کا بدلہ لیں گے اور فوری طور پر ایوان صدر منتقل ہوجائیں گے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔

ایسا لگتا ہے کہ صدر باسیرو ایوان صدرکے بجائے ہوٹل میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ “آزالی” ہوٹل میں ٹھہرےہیں جس پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوتی ہے۔ یہ ہوٹل ڈاکار کا 4 اسٹار ہوٹل ہے۔

سینیگال میں صدارتی محل (سوشل میڈیا پر زیر گردش)

سینیگال میں صدارتی محل (سوشل میڈیا پر زیر گردش)

باسیرو ایک مختلف شخصیت

صدر باسیرو کے مختلف رویے نے مقامی میڈیا کی دلچسپی کو جنم دیا۔ بعض ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ صدر باسیرو کے ایوان صدر میں آنے میں تاخیر کی ایک وجہ سکیورٹی کے مسائل بھی ہوسکتےہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ابھی تک ایوان صدر میں انہیں جتنی سکیورٹی کی ضرورت ہے وہ دستیاب نہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ ایوان صدر کی تزئین وآرائش کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے سینیگال کے محقق یحییٰ سی کا کہنا تھا کہ مقامی اخبارات اور نیوز سائٹس کی جانب سے اس مسئلے کو اٹھانے کے بعد توجہ حاصل ہوئی تاہم اس کی تشریحات مختلف ہیں اور اصل وجہ کسی کو معلوم نہیں۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ صدارتی محل کے نئے مہمان کو وہاں رہنے کی جلدی نہیں۔ کیونکہ وہ انتخابات جیت کر مؤثر طریقے سے نئے مالک بن گئے ہیں تاہم محل کے مکین کی حیثیت وقت کی اہم بات ہے۔

محقق نے کہا کہ صدارتی محل میں صدر کے قیام سے ان کی ٹیم کے لیے بہت سی چیزیں آسان ہو جائیں گی۔ ان کو ہر موقع پر صدارتی محل میں آمد و رفت اور بطور صدر اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے بہت زیادہ حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوٹل سے اس کی روانگی سے محل میں اس کی آمد تک اور پھر دوبارہ ہوٹل لوٹنے میں بھی انہیں سکیورٹی درکار ہوتی ہے”۔

سینیگال میں صدارتی محل (سوشل میڈیا پر زیر گردش)

سینیگال میں صدارتی محل (سوشل میڈیا پر زیر گردش)

دونوں بیگمات کا تعارف

یحیی سی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “باسیرو نے سینیگال میں صدارت کی تاریخ میں بے مثال اور غیر معمولی کام کیے، جیسا کہ انہوں نے اپنی دو بیویوں کو عوام کے سامنے پیش کرکے ان کا تعارف کرایا۔ انہوں نے سرکاری مواقع پر بھی روایتی لباس پہننے کا انتخاب کیا اور اپنے پیشروؤں کی روایات کے برعکس عام سوٹ اور ٹائی پہنی۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ باسیرو کے صدارتی محل سے ہٹنے کی وجہ سکیورٹی وجوہات تھیں۔

جب کہ ان کے کچھ حامیوں نے کہا کہ ان کا ذاتی فیصلہ ان کے یقین اور سادہ طرز زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صدارتی محل کی تزئین و آرائش کی ضرورت ہے۔

سینیگال پر حکمرانی کرنے والے سب سے کم عمر صدر

قابل ذکر ہے کہ باسیرو بائی فائی جن کی عمر 44 سال ہے نے صدارتی انتخابات میں پہلے مرحلے میں 54.28 فیصد سے کامیابی حاصل کی۔ اس طرح وہ سینیگال پر حکمرانی کرنے والے سب سے کم عمر صدر اور افریقہ میں عمومی طور پر سب سے کم عمر منتخب صدر بن گئے۔

انہوں نے اپنے دوست عثمان سونوکو کو 25 وزراء اور 5 وزرائے مملکت پر مشتمل حکومت کے سربراہ کے طور پر منتخب کیا جن میں سے زیادہ تر وہ شخصیات تھیں جو عام لوگوں کے لیے نامعلوم اور وزارتی سطح پر نئی تھیں۔

نئی حکومت میں خارجہ امور، ماہی گیری، خاندان، نوجوانوں اور ثقافت کے لیے چار خواتین کو بھی شامل کیا گیا۔ اس حکومت کی نمایاں خصوصیات میں سابق سپریم کمانڈر اور ملٹری عدلیہ کے ڈائریکٹر کی تعیناتی بھی شامل ہے جنہیں وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔

جنرل جین بپٹسٹ کو سابق صدر میکی سال کے دور میں قبل از وقت ریٹائرڈ کردیا گیا۔ تحقیقات کے بعد انھوں نے حزب اختلاف کے رہ نما عثمانی سونوکو کے خلاف ریپ کے الزام میں کمیشن بنایا تھا جس کے نتیجے میں انھیں بری کر دیا گیا۔

سونوکو نے اپنی حکومت کے اولین اہداف نوجوانوں کے مسائل، تعلیم، کاروبار، روزگار، قیمتوں کا مقابلہ کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ احتساب، اقتصادی خودمختاری، ترقی، قومی یکجہتی کو مستحکم کرنے، سلامتی کو بڑھانے اور جمہوری نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کا تعین کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *