May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
الحشيش

بدھ کے روزجرمن حکام نے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس میں تفریحی مقاصد کے لیے چرس کے استعمال کو قانونی حیثیت دینے کی اجازت دی گئی ہے، اس کے علاوہ نوجوانوں کو اس حوالے سے ایک تعلیمی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔

مسودہ قانون کے متن کے مطابق 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد 25 گرام تک بھنگ رکھ سکیں گے۔

اس طرح جرمن قانون اس سلسلے میں یورپ میں سب سے زیادہ آزاد خیال قانون سازی میں سے ایک ہو گا، جس سے ملک مالٹا اور لکسمبرگ کی مثال کی پیروی کرے گا، جنہوں نے بالترتیب 2021 اور 2023 میں تفریحی مقاصد کے لیے چرس کے استعمال کو قانونی حیثیت دی تھی۔

رمن وزیر صحت کارل لاؤٹرباخ کے مطابق دماغ پر چرس کے خطرات کے بارے میں نوجوانوں میں ایک تعلیمی آگاہی مہم شروع کرنا چاہتے ہیں۔ خصوصا نشونما کے دور میں بچوں کو اس حوالے سے اگاہی فراہم کی جائے گی ‘‘۔

وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ اس نشہ آور پلانٹ کا استعمال اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کے لیے “ممنوع رہے گا”، جب کہ یہ نوجوان بالغوں (18 سے 21 سال کی عمر کے درمیان) کے لیے کچھ شرائط کے تابع ہوگا۔

سوشل ڈیموکریٹک چانسلر اولاف شولز کے حکومتی اتحاد نے گرین پارٹی اور لبرلز کے ساتھ مل کر اس قانون سازی کو اپنی مدت کے اہم منصوبوں میں سے ایک بنایا، حالانکہ بل کے پہلے مسودے میں مزید نرم اقدامات شامل تھے لیکن برلن کو “یورپی یونین کے تحفظات” کی وجہ سے شرائط میں ترمیم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

مسودہ قانون اپوزیشن، پولیس یونینوں اور ججوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ “اسمگلنگ کی کارروائیوں کو ختم نہیں کرے گا”۔

نئی قانون سازی اگر منظور ہو جاتی ہے تو ذاتی استعمال کے لیے بنائے گئے بھنگ کے تین پودوں تک کاشت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

مسودہ قانون میں غیر منافع بخش انجمنوں کے قیام کا امکان بھی شامل ہے جس میں بالغ ارکان کی تعداد 500 سے زیادہ نہ ہو۔انہیں سرکاری حکام کی نگرانی میں اپنے استعمال کے لیے پلانٹ اگانے کی اجازت ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *