May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
court

اقوام متحدہ کی قائم کر دہ سب سے بڑی عدالت ‘ بین الاقوامی عدالت انصاف’ نے پیر کے روز فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے اور اسے جڑے دیگر نکات پر سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔ سماعت کے سب سے پہلے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض الماکی کو اپنا موقع دیا گیاہے۔

عدالت کے سامنے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے پیش کردہ اس استدعا کو زیر بحث لایا جارہا ہے جنرل اسمبلی نے 2022 میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے رکھی تھی کہ کہ وہ فلسطینی پر اسرائیل کے قبضے کی قانونی یا غیر قانونی قبضےکے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کرے ۔ تاہم واضح رہے یہ رائے ایسے فیصلے کی شکل میں نہیں ہو گی جس کی پابندی لازمی ہو۔

اتفاق سے اس اہم معاملے کی سماعت کا آغاز اس وقت ہو رہا ہے جب اسرائیلی فورسز غزہ میں ساڑھے چار ماہ سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک اسرائیلی فورسز نے صرف غزہ میں 29 ہزار فلسطینی قتل کیے ہیں ۔ زخمیوں کی تعداد اور پورے غزہ کی بمباری سے تباہی کے نتیجے میں 23 لاکھ بے گھر ہونےوالے فلسطینیوں کی بے بسی کا منظر اس کے علاوہ ہے۔

یہ بھی اسی جنگ م کے دوران ہوا ہے کہ جنوبی افریقہ کی ایک درخواست پر اسی بین نالاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے معاملے کو دیکھا اور اسرائیل کے لیے حکم جاری کیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کی اس غیر معمولی سماعت کے دوران لگ بھگ پچاس ملکوں کا موقف سامنے آئے گا جبکہ عالمی سطح پر انسانی ھقو کے تحفظ کے لیے کام کرنےوالی تنظیموں کو بھی اسرائیلی قبضے کے بارے میں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، سماعت کے لیے مجموعی طور پر چھ دن مقرر کیے گئے ہیں ۔ جبکہ اسرائیل نے اپنا موقف تحریری طور پر عدالت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی قبضے، ناجائز یہودی بستیوں کی تعمیر بھی زیر سماعت رہے گی۔ اس سے قبل 2004 میں یہی عدالت اسرائیلی کی طرف سے اپنے فلسطین پر قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے بنائی گئی علیحدگی کی دیوار پر بھی سماعت کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ اس دیوار کو غیر قانونی ہونے کی بنیاد پر گرا دیا جائے تاہم یہ دیوار آج بھی کھڑی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *