May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
U.S. Secretary of State Antony Blinken waves as he boards a plane, en route to Saudi Arabia, as part of his fifth urgent trip to the Middle East since the war between Israel and the Palestinian Islamist group Hamas in Gaza erupted in October, at Joint Base Andrews, in Maryland, U.S., February 4, 2024. Mark Schiefelbein/Pool via REUTERS

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعرات کے روز اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اب بھی ممکن ہے تاہم بہت سے مشکل مسائل کا سامنا ہے اور ان کو حل کیے بغیر قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر کوئی پیش رفت ممکن نہیں ہے۔

امریکہ، مصر اور اسرائیل کے انٹیلی جنس سربراہان اور قطری وزیراعظم کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کے لیے ہونے والی ملاقات منگل کے روز ںغیر کسی پیش رفت اور نتیجے کے ختم ہوگئی۔

‘کیا جنگ بندی کا معاہدہ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان جو کہ 10 مارچ سے شروع ہو رہا ہے سے قبل ممکن ہے’ کے سوال پر بلنکن کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے ممکنہ معاہدے پر حماس کے پہلے رد عمل میں کچھ واضح ‘نان اسٹاٹرز’ شامل تھے تاہم حماس نے جنگ بندی کے معاہدے پر کام کرنے کی پیشکش کی تھی۔’

بلنکن نے البانیہ کے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم اب قطری، مصری اور اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر معاہدہ پر کام کر رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ممکن ہے۔

بلنکن نے مزید کہا کہ ‘ہمیں کچھ بہت مشکل مسائل درپیش ہیں جن کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے البتہ ہم معاہدہ کو آگے بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے پر عزم ہیں۔’

جنگی بندی مذاکرات سے واقف ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے حماس کی فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل نے حماس کی تجویز کردہ فلسطینی قیدیوں کی تعداد کے تناسب کو ناپسند کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا معاہدہ میں ایک اور رکاوٹ حماس کی فوری جنگ بندی کی تجویز بھی ہے۔ حماس جلد از جلد جنگ بندی کی حمایت میں ہے تاہم اسرائیل اس کے بر عکس جنگ بندی میں تاخیر کی حمایت میں ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ممکنہ جنگ بندی معاہدے اور قیدیوں کے باہمی تبادلے کے حوالے سے مزید پیش رفت کے سلسلے میں ‘سی آئی اے’ کے ڈائریکٹر بل برنز بھی جمعرات کے روز اسرائیل میں موجود تھے۔ تاہم اس پر ‘سی آئی اے’ نے کسی بھی قسم کے تبصرہ سے انکار کیا ہے۔

بلنکن نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان رپورٹس کی تحقیقات کرے جن کے مطابق اسرائیلی افواج نے ایک امریکی نژاد فلسطینی نوجوان کو مغربی کنارے میں 10 فروری کو ہلاک کیا تھا جو کہ حالیہ ہفتوں میں اس نوعیت کی دوسری موت ہے۔

سترہ سالہ امریکی نژاد فلسطینی نوجوان محمد احمد محمد خدور کی موت کی بابت پوچھے جانے پر جو کہ 19 جنوری کے روز توفیق عبد الجبار کے قتل کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیل نے تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انٹونی بلنکن نے امریکی نژاد فلسطینی نوجوان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ رازداری کے قوانین کے محدود معاملات کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ‘البتہ ہم نے واضح کردیا ہے کہ حقائق جاننے کے لیے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر مناسب ہوا تو احتساب بھی کیا جائے گا۔’

‘ڈیفنس فار چلڈرن’ نامی فلسطینی این جی او کے اکھٹے کیے گئے شواہد کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے اندر خدور موجود تھا۔
جی او نے کہا کہ اس نے شواہد اکٹھے کیے ہیں کہ اسرائیلی فورسز نے ایک کار پر فائرنگ کی جس کے اندر خدور تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *