May 27, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

تیزاب کے حملے میں خاتون کی ایک آنکھ ضائع، ایک بیٹی معمولی زخمی، ملزم نے خود دریائے ٹیمز میں ڈوب کر خود کشی کی:پولیس

This image, captured about 70 minutes after the attack, shows the suspect at a Tesco Express in north London

برطانوی پولیس نے جمعہ کی شام اعلان کیا کہ پیر کے روز وسطی لندن میں دریائے ٹیمز میں ڈوبنے والا وہ شخص جس نے گذشتہ جنوری کے آخر میں اپنی سابق جیون ساتھی اور اس کی دو بیٹیوں پر کیمیائی مادے سے حملہ کیا تھا۔

شبہ ہے کہ 35 سالہ عبد یزیدی نے بدھ 31 جنوری کی شام اپنی کار میں اپنے 31 سالہ سابق بیوی اور اپنے دو بچوں پر کاسٹک سوڈا یا بلیچ سے ملتا جلتا “الکلائن” مادہ چھڑکایا تھا۔ حملے کے دوران اس نے جو مادہ استعمال کیا تھا اس کی وجہ سے خاتون کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ حملے کےبعد شائع ہونے والی تصاویر نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

خاتون جو ابھی تک ہسپتال میں ہے حملے کے نتیجے میں اپنی دائیں آنکھ کھو چکی ہے جب کہ اس کی دو بیٹیوں میں سے ایک کو معمولی چوٹیں آئیں۔

پولیس نے جمعہ کی شام اس بات کی تصدیق کی کہ “اس خوفناک حملے کی تحقیقات جاری ہے۔ امید ہے کہ متاثرہ خاتون کی حالت بہتر ہونے پر اس کا بیان ریکارڈ کیا جا سکے گا‘‘۔

پولیس نے مزید کہا کہ انہوں نے جمعرات کو عبد یزیدی کی شناخت کی۔ اس کے خاندان کو مطلع کیا گیا جس نے تصدیق کی کہ وہ ڈوب گیا ہے۔

پولیس اہلکار جان ساویل نے کہا کہ “ہم نے یزیدی کو جلد از جلد شناخت کرنے کے لیے کام کیا”۔

اس حملے کے بعد جو جنوبی لندن کے کلاپہم محلے میں پیش آیا پولیس نے برطانوی دارالحکومت میں بہت سے نگرانی والے کیمروں کا استعمال کرتے ہوئے لندن میں ایک عبد یزیدی جو ایک افغان نژاد پناہ گزین ہےکی نقل و حرکت کا بغور جائزہ لیا۔ پولیس نے ملزم کی گرفتاری میں مدد دینے کے لیے پچیس ہزار ڈالر کی انعام کی بھی آفر کی تھی۔

نگرانی والے کیمرے کی فوٹیج کی بنیاد پر امکان ہے کہ اس نے دریائے ٹیمز میں چھلانگ لگا دی تھی، کیونکہ 31 جنوری کی رات 11:25 پر چیلسی برج پرپہنچنے کے بعد اس کا کوئی پتا نہیں چلا۔

35 سالہ عبدالشکور ایزدی کو آخری بار شمالی لندن کے کیلیڈونین روڈ میں دیکھا گیا تھا اور پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کے قریب نہ جائیں۔

35 سالہ عبدالشکور ایزدی کو آخری بار شمالی لندن کے کیلیڈونین روڈ میں دیکھا گیا تھا اور پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کے قریب نہ جائیں۔

گذشتہ پیر کی سہ پہر وسطی لندن میں ٹاور برج کے قریب ایک کشتی نے اس کی لاش دیکھی۔ جو دارالحکومت کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

لندن پولیس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ ”حملے کے وقت اس نے جو مخصوص لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے جسم سے ملنے والی اشیاء کی بنیاد پر ہمیں پختہ یقین ہے کہ یہ شخص عبد یزیدی ہی ہے۔

برطانوی میڈیا نے بتایا کہ یزیدی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 2016 میں افغانستان سے آیا تھا۔ اسے 2018ء میں جنسی جرم کا مرتکب ہونے پر نیو کیسل کورٹ نے معطل سزا کا حکم دیا تھا۔

میڈیا نے مزید کہا کہ وہ دو مرتبہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں ناکام رہا لیکن اسے تیسری کوشش میں ایک پادری سے مل کر عیسائیت قبول کرنے کے بعد پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *