May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/gracelia.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
هيلاري كلينتون وجو بايدن

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے امریکی ووٹروں سے کہا کہ وہ جو بائیڈن کو دوبارہ صدر منتخب کریں، ان کی عمر زیادہ ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر ڈونلڈ ٹرمپ جمہوریت کے لیےخطرہ ہیں۔

ہیلری کلنٹن نے ریڈیو پروگرام “مارننگ ود زرلینا” میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ جوبائیڈن بوڑھے ہوچکے ہیں۔ مگر وہ موزوں صدارتی امیدوار ہیں۔ عوام کو اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے‘‘۔

انہوں نے ووٹروں پر زور دیا کہ وہ بائیڈن کی حمایت جاری رکھیں۔ یہ درست ہے کہ جوبائیڈن اب تک کے سب سے معمر صدر ہیں جو دوسری مدت کے اختتام پر 86 برس کے ہوں گے مگر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جن کی عمر 77 سال ہے اگر وہ صدر منتخب ہوگئے توامریکی جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

اس نے مزید کہا کہ “کسی نے ایک دن مجھ سے کہاکہ ٹھیک ہے لیکن آپ جانتی ہیں جو بائیڈن بوڑھے ہو چکے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں جو بائیڈن بوڑھے ہو چکے ہیں لیکن آئیے آگے بڑھیں اور سچائی کو قبول کریں۔ ہمارا ایک مقابلہ ایک جمہوریت دشمن شخص سے ہے مگر جوبائیڈن سے جمہوریت کو خطرہ نہیں۔

کلنٹن نے 2024ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں بائیڈن اور ٹرمپ کے درمیان انتخاب کی اہمیت پر امریکیوں پر زور دیا کہ وہ امریکی جمہوریت کو بچانے کے لیے، سیاسی وابستگی سے قطع نظر آزادی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جوبائیڈن کو صدر منتخب کریں۔

فاکس نیوز نے وضاحت کی کہ سابق امریکی صدر براک اوباما کے سابق معاونین کا کہنا ہے کہ بائیڈن کے لیے عمر ایک “بہت ہی حقیقی مسئلہ” ہے۔ عمر کی وجہ سے جوبائیڈن “کمزور” اور “پراسرار” دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا اگرچہ ہلیری کلنٹن نے لوگوں سے کہا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ بائیڈن بوڑھے ہو چکے ہیں تو وہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کررہی ہیں۔

نہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو سنو، وہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ بلند آواز میں، بے ہودہ ہے اور یہ بھی یاد نہیں رکھتا کہ وہ کس کے خلاف لڑ رہاہے۔ وہ مسلسل براک اوباما کے بارے میں اپنے مخالف کے طور پر بات کرتاہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *